Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

یونیورسٹیوں کو طلباء میں کیا دیکھنا چاہیے

یونیورسٹیوں کو طلباء میں کیا دیکھنا چاہیے

یونیورسٹی کی تعلیم کسی بھی طالب علم کے لیے زندگی کا ایک بہترین تجربہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یونیورسٹیز میں دوران تعلیم، تعلیم کا آغاز کرنے سے پہلے یا فارغ التحصیل ہونے کے بعد طلباء کا جو سب سے اہم سوال ایک سٹوڈنٹ کونسلر سے ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ کونسا بہترین مضامین کا کمبینیشن ہے جس کو وہ لے کر تعلیم کا آغاز کر سکتے ہیں۔ کافی عرصہ پہلے تک ایک جی سی ای او لیول کرنے والا طالب علم آگے جا کر ایڈوانس لیول کرتا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کے ذہن میں مستقبل کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی موجود ہوتی تھی۔ لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ طلباء کا ذہن کافی حد تک بدل چکا ہے۔ اور طلباء کی اکثریت اب بہترین کالجز میں داخلہ لینے کے منصوبہ کرتی ہے۔ کیونکہ ان میں یہ احساس جاگ چکا ہے کہ وہ اچھے کالجز میں داخلہ لیں گے محنت کریں گے اور اچھے نمبز لیں گے تاکہ آگے جاکر ان کا مستقبل روشن ہو سکے۔ ایسے طلباء جو آرٹس کے شعبے کو پسند کرتے ہیں وہ ہیومینیٹیز کے شعبے کا انتخاب کرتے ہیں اور بالخصوص جب انہیں بیرون ملک تعلیم کے لیے اپلائی کرنا ہوتا ہے۔ ہماری مقامی یونیوسٹیز بھی کئی شعبوں میں ڈگری پروگرامز آفر کرتی ہیں اور ان کی داخلہ کی پالیسیز بھی لچک دار ہیں لیکن بعض یونیورسٹیز جیسا کہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز ہے جہاں داخلہ لینا کسی حد تک مشکل ہے کیونکہ وہاں مقابلے کا رحجان کافی ذیادہ ہے۔

اسی طرح اگر بیرون ملک ہم یونیوسٹیزاور کالجز میں داخلہ کی پالیسیز کو دیکھیں تو وہاں بھی داخلہ کا حصول اتنا آسان نہیں ہوتا اگر طالب علم کا اکیڈمک ریکارڈ بہترین نہیں ہے۔ جیسا کہ لندن سکول آف لا ہے۔ جہاں پر میرٹ کو فوقیت دی جاتی ہے۔ لندن کالج آف لاء میں قانون کی ڈگری کے علاوہ انگلش لٹریچر اور فنون لطیفہ جیسے مضامین میں بھی ڈگری پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن برطانیہ میں کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ کا معیار اگر ہم اس کا جائزہ پاکستان میں موجود داخلہ پالیسی کے ساتھ کریں تو بہت واضح فرق موجود ہے۔ برطانیہ میں زیادہ تر یونیورسٹیز طالب علم کا اکیڈمک ریکارڈ کا بھرپور طریقےسے جائزہ لیتی ہیں۔ اگر طالب علم نے سکول اور کالج کی سطح پر او لیولز اور اے لیولز کیے ہیں تو اس کی مکمل گریڈنگ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی  پاکستانی شہری برطانیہ کی کسی یونیوسٹی میں داخلہ کا خواہشمند ہے تو یونیورسٹی کی سطح پر برطانیہ میں داخلہ دینے سے پہلے اس مکمل اکیڈمک ریکارڈ، جی سی ای کے نتائج اور اس کے علاوہ خاص طور پر اس کی انگلش میں مہارت کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے انگلش میں مہارت کے حوالے سے کون سے دستاویزی ثبوت پیش کیے ہیں۔

زیادہ تر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو طلباء اپنے انٹرمیڈیٹ لیول میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں اور میرٹ مکمل کر رہے ہوتے ہیں یونیوسٹیز داخلہ دینے سے پہلے طلباء کا انٹری ٹسٹ لیتی ہیں جو کہ جنرل انگلش، میتھس، گرائمر اور جنرل نالج پر مشتمل ہوتا ہے اور میرٹ پر آنے کے لیے یونیوسٹیز کی طرف سے یہ لازم ہوتا ہے کہ طالب علم کم سے کم 80 فیصدی مارکس انٹری ٹسٹ میں حاصل کرے۔ ایسے طالب علم جنہوں نے انٹرمیڈیٹ پری انجینیئرنگ یا میڈیکل میں کیا ہوتا ہے ان کے مضامین میں یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ ان طلباء نے ہیومینیٹیز کے مضامین کو بھی پڑھا ہوتا ہے۔ لہذا یونیورسٹیز کسی بھی طالب علم کو داخلہ دینے سے پہلے میرٹس کے کئی رولز کو فالو کرتی ہیں جن میں خاص طور پر طالب علم کا اکیڈمک ریکارڈ، انٹری ٹسٹ میں اس کی کارکردگی اور اس کے وہ تمام تر مضامین جو کہ وہ اس سے پہلے انٹرمیڈیٹ یا ایڈوانس لیول میں پڑھ چکا ہوتا ہے سب کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ہی طالب علم کا داخلہ منظور یا مسترد کیا جاتا ہے۔



Excerpt

an article about university education, advancement in career, different degree programs and their importance in future ahead. writer has comprise many good issues in this article.

Tags

Career , Education


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies