Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

ہم نصابی سرگرمیاں طالب علموں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔

ہم نصابی سرگرمیاں طالب علموں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔

اب بھی ہمارے معاشرے میں مخلص اور قابل ٹیچر و اساتذہ موجود ہیں جو طلبہ و طالبات کے چہروں پر لکھی عبارت پڑھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اور انہیں جانچنے کے بعد اپنی ذاتی مہارت اور صلاحیتوں کے ذریعے انہیں راہ راست پر لے آتے ہیں۔ ہمیں طلباء کے رحجانات کو ترجیح دینی چاہیے۔ اور وہ جس فیلڈ میں جانا چاہتے ہیں اس فیلڈ کے مطابق ہمیں طلباء کی رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے تاکہ بعد میں یہ ترجیحات ان کی کامیابی کی ضمانت بن سکیں۔

طلباء کی ذہنی نشوونما بہت ضروری ہے۔ جس میں ہم نصابی سرگرمیاں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اور ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ طلباء کی کلاس میں ہر طرف مختلف رنگوں سے تیار کردہ چارٹز اور ڈرائنگز لگی ہوئی ہوں جو نصابی مواد سے مطابقت رکھتی ہوں۔ فطری طور پر سب طالب علم فطری ذہانت اور صلاحیت میں ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ کچھ طالب علم ذہین ہوتے ہیں اور باتوں کو فوری طور پر سمجھتے ہیں اور سیکھ جاتے ہیں ایسے طالب علم اپنے ماحول سے بھی بہت جلدی سیکھتے ہیں۔ بعض طالب علموں کی ذہنی صلاحیت نسبتا کم ہوتی ہے اور ان پر اساتذہ کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ کوئی بھی بات سیکھنے اور سمجھنے میں وقت لیتے ہیں اور ایسے طالب علم زیادہ توجہ کے مستحق بھی ہوتے ہیں۔

اگر کمزور طالب علموں کو زائد کلاسز اورتربیت دی جائے اور ان کی ذہنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے تو اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسے طالب علموں کو یہ موقع بھی دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیں اس کا مشاہدہ کریں اور بھی جو کچھ بھی اس کے مطابق ان کے ذہن میں آتا ہے وہ خیالات اور تصورات وہ ایک نوٹ بک پر لکھتے جائیں۔ اور پھر بعد میں ان کے بنائے ہوئے نوٹس کے مطابق ان طالب علموں سے بات کی جائے اور سوالات کیے جائیں کہ انہوں نے اپنے ارد گرد کیا مشاہدہ کیا اور کچھ سوچا اور سمجھا۔ اس طرح ہم ان کی نہ صرف دلچسپیوں اور مشاغل کے بارے میں جان سکتے ہیں بلکہ ان کو نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

ہمارے موجود نظام تعلیم میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ یہ یکساں نہیں ہے۔ اردو اور انگلش میڈیم کے امتزاج نے اس نظام کو ایک بہت عجیب سا رنگ دے دیا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے طالب علموں کے لیے کھیل کود کا وقت نکالنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ بھاری بھرکم بستے اور کتابیں ان کو پڑھائی سے ہی فرصت نہیں لینے دیتیں کہ وہ کھیل کود کے لیے تھوڑا وقت نکال سکیں۔ لہذا ایسے میں طالب علموں کو کلاس میں ہی ایسی سرگرمیاں فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف ان کی جسمانی نشوونما ہو سکے بلکہ اخلاقی تربیت بھی جاری رہ سکے۔

ادارے میں اگر اساتذہ کی سہولت موجود ہے تو سبھی طالب علموں کے ذہنی افکار میں کافی حد تک تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ایسے ٹیچرز موجود ہوں جو طالب علموں کو دوستانہ ماحول میں پڑھا سکیں۔ اور ہر تعلیمی مسئلے میں طلباء کی مدد کر سکیں یہ ایک اہم انتظامی ذمہ دای ہوتی ہے۔ کوئی بھی تعلیمی ادارہ اپنے تعلیمی نظام کو اسی وقت بہتر بنا سکتا ہے جب وہ اس پربات پر خصوصی توجہ دے اور اس ادارے کی سرگرمیاں خواہ کچھ بھی ہوں نصابی یا غیر نصابی اگر ان میں کمی بیشی ہے تو اس کمی کو احسن طریقے سے پورا کیا جانا چاہیے۔



Tags

Children , Education , Extra Curriculam Activities , Study


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies