Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

کیا مصنوعی ذہانت تعلیم کا مستقبل ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت تعلیم کا مستقبل ہے؟

ترقی کا دور ہے۔ اور سائنس نے پچھلی کئی دہائیوں میں بہت ترقی کی ہے۔ انٹرنیٹ، مصنوعی زہانت  (Artificial Intelligence) ، مواصلاتی نظام کی ترقی یہ سب سائنس کا ہی کرشمہ ہے۔ تعلیمی میدان میں منصوعی زہانت کا کردار ہمیشہ سے ہی ایک بہت اہم موضوع رہا ہے جس پر اس سے پہلے بھی بہت زیادہ بات ہو چکی ہے اور لمبی چوڑی بحث ہو چکی ہے۔ بعض لوگ اس بات سے پریشان ہیں اور بعض لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ مصنوعی زہانت ایک دن مکمل طور پر تعلیم کے شعبہ پر حاوی ہو جائے گی۔ اور یہ ٹیکنالوجی ہو سکتا ہے اساتذہ کی جگہ لے چکی ہو گی۔ لیکن بعض لوگوں کا دعوی یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تعلیم کے شعبہ میں ایک انقلاب برپا ہو جائے گا اور تعلیم معیار میں مذید ترقی ہو گی۔ فی الحال ہم کلاس رومز میں روبوٹس کو نہیں دیکھ رہے ہیں لیکن بہرحال مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں رفتہ رفتہ اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ کئی ایسی چیزیں ہیں جو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت کے بل بوتے پر طلباء کی گریڈنگ کرنا نہایت آسان اور تیز ہو گیا ہے۔

مستقبل قریب میں ہم تعلیمی اداروں اور کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے مزید استعمال کی توقع کر سکتے ہیں۔ منصوعی ذہانت طلباء کے لیے مزید آسانیاں پیدا کر دے گی اور طلباء اپنی پڑھائی کے دوران مصنوعی زہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیمی دنیا میں نئی باتوں کا تجربہ کریں گے اور اس ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ ایسے تعلیمی پروگرامز تشکیل دیے جائیں گے جو کہ مصنوعی زہانت کے ذریعے پروگرام ہوں گے اور وہ طلباء کے لیے بطور ٹیچر کام کر سکیں گے۔ اور وہ اس بات کا بھی اندازہ بخوبی لگا سکیں گے کہ طلباء کس مضمون میں کمزور ہیں اور ان کی تعلیمی خامیوں کو کس طرح سے دور کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں کیا ہو سکتا ہے۔ لہذا اس طرح مصنوعی زہانت بطور ٹیچر کے بہترین کام کرے گی۔

اس قسم کی مصنوعی ذہانت نہ تو کوئی سائنس فکشن قسم کی کہانی ہے اور نہ کوئی خواب ہے۔ مصنوعی ذہانت پہلے سے کچھ کلاس رومز میں موجود ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا استعمال ہو بھی رہا ہے۔ سپین (Spain) میں سائنسدانوں نے ٹیچر روبوٹس پر کام شروع کر دیا ہے اور اس پر تجربات ہو رہے ہیں۔ جو کہ طلباء کو پھرپور طریقے سے پرکھ سکیں گے اور پھر ایسے طلباء جو پڑھائی میں کمزور ہوں گے ان کی نشاندہی ہو سکے گی اور ان کی بھرپور تربیت کا آغاز ہو سکے گا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ (United States of America)  میں ایڈ ٹیک کمپنی نیوٹن( EdTech Company Knewton)  نے حال ہی میں ایک پروگرام کا اجراء کیا ہے جو کہ طلباء کی پہلے اسیسمنٹ کرتا ہے یعنی طلباء کو کوئی بھی اسائمنٹ دینے سے پہلے ان کی پرکھ کی جاتی ہے کہ آیا ان میں اتنی قابلیت موجود ہے کہ وہ دی گئی اسائمنٹ کو بھرپور طریقے سے پورا کر سکیں گے۔

ایک طرف مصنوعی ذہانت پرکام ہو رہا ہے اور دوسری طرف یہ بات اساتذہ کے لیے بھی باعث مسرت ہو گی کہ اب ان کو کئی کئی گھنٹے طلباء کے ساتھ مغز ماری نہیں کرنی پڑے گی ان کی پریشانیاں کم ہو جائیں گی اور ان کو ایسے بچوں کے ساتھ جو پڑھائی میں کمزور ہوتے ہیں بہت زیادہ محنت نہیں کرنے پڑے گی کیونکہ مصنوعی زہانت اس معاملے میں ان کی بھرپور معاونت اور مدد کرے گی۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہر بچے کو انفرادی توجہ مل سکے گی۔ ان کی پڑھائی میں کمزوری کا جائزہ لے کر ان کو بھرپور توجہ دی جائے گی تاکہ ان کی تمام تر کمزوریاں اور تعلیمی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ مصنوعی زہانت کی موجودگی کے باوجود انسان بطور ٹیچر کلاس روم میں کام کریں گے اور کلاس روم میں ڈسپلن کا قائم رکھنا اساتذہ کا ہی کام ہے۔



Excerpt

An article about artifician intelligence. writer has given very good comparison between a teacher and artifical intelligence and robotics.

Tags

Education , Training


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies