Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

پڑھائی کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بھی ضروری ہیں

پڑھائی کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بھی ضروری ہیں

جس طرح اینٹ پتھر سیمنٹ سے بنی ایک عمارت کو اس عمارت میں رہنے والے لوگ اس جگہ کو گھر بناتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ایک تعلیمی درسگاہ کو وہاں کس اساتذہ، طلباء اور وہاں دی جانے والی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا معیار اس کو ایک اعلی درجے کا معیاری تعلیمی ادارہ بناتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں جو بھی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں ہوتی ہیں ان کی بدولت طلباء کو اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ نصابی سرگرمیاں بچوں کی پڑھائی اور پڑھنے کی استعداد میں اضافہ کرتی ہیں تو دوسری طرف غیر نصابی سرگرمیاں کھیل کود، ورزش اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ان کی جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی ذہانت میں بھی اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔ ہم نصابی سرگرمیوں میں بچوں کے آپس میں پڑھائی کے دوران مقابلے کا رحجان پیدا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے سے پڑھائی میں سبقت لے جانا، اچھے مارکس لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے ہم عمر ساتھیوں کی جو کہ پڑھائی میں کمزور ہوں کی مدد کرنا جیسی باتیں جنم لیتی ہیں۔ جو بچے ذہین ہوتے ہیں ان میں آگے بڑھنے کی لگن اور کچھ کر دکھانے کی لگن موجود ہوتی ہے۔

تعلیمی ادارے وقتا فوقتا طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف قسم کے ایونٹس کا انعقاد کرتے ہیں جیسا کہ میوزک کنسرٹ، تقریری مقابلے، نعت خوانی کے مقابلے اور تعلیمی نمائش وغیرہ۔ یہ تمام تر باتیں صحت مندانہ سرگرمیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس طرح کے تمام تر مقابلے طلباء کی اندرونی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور سامنے لانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے مقابلوں کے ہونے سے طلباء کا اعتماد بڑھتا ہے۔ ان میں لوگوں کا سامنے کرنے کے لیے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ لوگوں سے ملنے جلنے، گفتگو کے آداب، اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے آداب، اور دیگر طور طریقے سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ تعلیمی ادارے بچے کی شخصیت اور کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بچہ اپنی زںدگی کا ایک سنہرا دور سکول میں گزارتا ہے اور زندگی کے شروعاتی دس سالوں میں بہت کچھ سیکھتا ہے اور اپنے ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔

ماہرین بچے کی شروعات زندگی کو سب سے زیادہ اہم تصور کرتے ہیں کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بچہ بالکل ایک کورے کاغذ کی طرح سے ہوتا ہے۔ اور یہ وہ عمر ہوتی ہے جہاں وہ تیزی سے سیکھتا ہے۔ کیونکہ گرم لوہے کو آپ جس طرح چاہیں موڑ سکتے ہیں۔ لہذا بچے کی زندگی کا یہ دور بھی اسی طرح نازک ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے ماحول سے بہت جلدی سیکھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جب بچہ سکول جانے کے قابل ہو جاتا ہے تو شروع دن سے ہی نصابی تعلیم کے ساتھ اس کو بھرپور طریقے سے غیر نصابی سرگرمیوں اور کھل کود میں شامل ہونے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس طرح بچے کی شخصیت پروان چڑھتی ہے اور پھر سکول کی زندگی مکمل ہونے کے بعد بچہ اعلی تعلیمی درسگاہوں، کالجز اور یونیورسٹیز کا رخ کرتا ہے جہاں وہ ایک نئی زندگی کی شروعات کرتا ہے اور نئے دوست بناتا ہے اور اس کو ایک نیا ماحول میسر آتا ہے۔

یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر غیر نصابی سرگرمیوں کی اور بھی زیادہ اہمیت ہے۔ بالخصوص یونیورسٹی کی سطح پر کلب کی ممبر شپ ملتی ہے اور سپورٹس ایونٹس میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر باقاعدہ مختلف قسم کی ٹیمیں کھیلوں کی سرگرمیوں جیسا کہ کرکٹ، فٹ بال، ٹینس وغیرہ کو فروغ دیتی ہیں۔ اور اس طرح طلباء کو غیر نصابی سرگرمیوں میں شامل ہونے اور کھیلنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔ اس طرح ان کی جسمانی صحت بھی بہترین ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ دماغ بھی بہترین طریقے سے کام کرتا ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بننے کی وجہ سے طلباء بہت سے منفی کاموں سے بھی دور ہو جاتے ہیں اور اس طرح ایک بھرپور اور صحت مندانہ سرگرمی میسر آنے کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں کو اور بھی فروغ ملتا ہے۔



Tags

Extra Curriculam Activities


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies