Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

ٹی وی اور کمپیوٹر گیمز ہمارے بچوں بر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں؟

ٹی وی اور کمپیوٹر گیمز ہمارے بچوں بر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں؟

ہمارے بچوں میں ان دنوں جو بے شمار سماجی خرابیاں دیکھی جا رہی ہیں ان کا الزام بہت سے لوگ براہ راست ٹیلی ویثرن اور کمپیوٹر گیمز پر عائد کرتے ہیں۔ انہیں یہ شکایت ہے کہ بچے اب گھر سے باہر کھیل کود کی سرگرمیوں میں زرا بھی دلچسپی نہیں لیتے اور سارا وقت (couch potatoes) بنے ہوئے آرام دہ صوفوں میں آلوؤں کی طرح دھنسے ہوئے ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کو بھی اپنے بچوں سے اس قسم کی شکایتیں ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے گھرانے کی ٹی وی دیکھنے کی عادات کا جائزہ لیں اور اگر وہ نا مناسب ہیں تو انہیں درست کریں۔ ہم میں سے بہت سے افراد ٹی وی اور کمپیوٹر کو ٹائم پاس کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں گویا ان سے (baby sitter) کاکام لیتے ہیں جو بہرحال نا مناسب رویہ ہے۔ ہمارا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کوٹی وی کے سامنے بٹھا کر یا ان کے لیے ڈی وی ڈی پر فلم لگا کر اپنے دوسرے کام بھگتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلا کھانا پکانا ہے، یا واشنگ میں کپڑے دھونا ہے یا فون پر کسی دوست یا سہیلی سے گپ شپ کرنی ہے تو بچوں کو ٹی وی یا کمپیوٹر گمیز کے حوالے کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ برٹش سائیکولوجیکل سوسائیٹی (British Physicological Society) کے ایک عہدیدار ڈاکٹر ایرک سگمین (Dr Airak Segman) کے مطابق ضرورت سے ذیادہ ٹی وی دیکھنے والے بچے (ADHD) یا (Attention deficit hyperactivity disorder) اور موٹاپے سمیت مختلف طبی مسائل میں گرفتار ہوتے ہیں۔ انہوں نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ ملک میں 3 سال سے کم عمر بچوں کو ٹی وی کے سامنے بیٹھنے کی بالکل اجازت نہیں دی جانی چاہیے جو بچے تین اور سات سال کی درمیانی عمر کے ہیں انہیں روزانہ 30 منٹ سے ایک گھنٹہ ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ سات سے 12 سال کی عمر کے بچوں کی ٹی وی دیکھنے کا ٹائم ایک گھنٹے تک محدود کیا جائے اور 12 سے 15 سال کے بچوں کو ڈیڑھ گھنٹہ ٹی وی سے لطف اندوز ہونے کے لیے وقت دیا جائے۔ ڈاکٹر سگمین (Dr Sigman) نے کہا کہ حکومت جس طرح نمک کے استعمال کے بارے میں ہدایت نامہ مشتہر کرتی ہے اسی طرح بچوں کے روزانہ ٹی وی دیکھنے سے متعلق یہ سفارشات بھی عام کی جائیں۔ تاہم ان سفارشات کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ٹی وی اور کمپیوٹر گیمز کو اپنے گھر سے باہر نکال دیں یا ان پر مکمل پابندی لگا دیں۔ اس ضمن میں جتنی بھی حالیہ تحقیقات ہوئی ہیں وہ حد سے ذیادہ ٹی وی دیکھنے سے متعلق ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کچھ ٹی وی پروگرام اور کمپیوٹر گیمز تعلیمی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں جن سے بچے تفریح کے ساتھ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔ آج کے دور میں ٹی وی دیکھنا ایک مشترکہ خاندانی مشغلہ ہے۔ اس لئے بجائے ہمہ وقت ٹی وی دیکھنے آن رکھنے کے اگر اس سے لطف اندوز ہونے کے اوقات مقرر کر لیے جائیں تو اس سے گھر کے تمام افراد مستفید ہو سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ ٹی وی کو متوازن بنانے کا ہے۔ ماہرین کی درج سفارشات کو عملی شکل دے کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلا کام تو یہ کریں کہ بچوں کی خواب گاہ سے ٹی وی اور کمپیوٹرز کو باہر نکال دیں۔ بچوں کے لئےسونے سے پہلے ٹی وی دیکھنے کی عادت اچھی نہیں ہوتی۔ ان کا ذہن منتشر رہتا ہے اور نیند دیر سے آتی ہے۔ بجائے اس کے کہ بچے رات کو دیر تک ٹی وی دیکھیں ان کے بستر پر جانے کے بعد بہتر ہو گا کہ آپ خود انہیں کوئی کہانی سنائیں یا وہ خود کوئی کہانی پڑھیں۔ ڈرائینگ یا فیملی روم میں ٹی وی اور کمپیوٹر رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ آپ کو یہ معلوم ہو گا کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور آن لائن کس سے بات کر رہے ہیں

اچھی اور بری عادتیں بچپن میں ہی پختہ ہوتی ہیں اس لئے شروع ہی میں بچوں کو اچھے پروگرام دیکھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر بچے شروع ہی سے ٹی وی کے سامنے یا ذیادہ وقت کمپیوٹر گیمز میں لگا رہے ہیں تو بڑے ہونے کے ناطے ان پر پابندی لگانا اور ان کے لیے اسے قبول کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ۔

ٹی وی گائیڈ کی مدد سے جس میں ٹی وی پروگرامز کے آن ائر جانے کے اوقات درج ہوتے ہیں بچوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ اس طرح وہ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کو سے مخصوص اوقات میں ان کے پروگرامز ٹی پر آئیں گے اور وہ اپنا قیمتی وقت اپنی پڑھائی میں لگائیں گے۔

ٹی وی دیکھنے کے اوقات بچوں کے مشورہ سے مقرر کریں۔ ان سے معلوم کریں کہ وہ کتنا وقت ٹی دیکھیں گے اور کمپیوٹر پر گیم کھیلیں گے اور کتنا وقت پڑھائی کریں گے۔ کوشش کریں کہ وہ ٹی اور کمپیوٹر پر گیم کے لیے آدھے آدھے گھنٹے کا وقت مقرر کر لیں۔

بچے سب سے ذیادہ اپنے والدین کی بات مانتے ہیں۔ ٹی وی دیکھنے کے لیے آپ اپنی مثال خود قائم کریں تو بچہ بھی خود بخود آپ کی پیروی کرے گا۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے ڈی وی ڈی پر جو فلمیں دیکھتے ہیں وہ ان کی عمر کے لحاظ سے ہوں یعنی کارٹون مویز اور ایڈوینچر مویز۔



Tags

Computer Games


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies