Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

مثالی استاد کی خصوصیات

مثالی استاد کی خصوصیات

تعلیمی ماحول کی فضا بہت سے عناصر سے مل کر وجود میں آتی ہے تاہم اس فضا کا سب سے اہم عنصر استاد کی شخصیت ہے۔ معلم انبیا علیم اسلام کا نائب ہے۔ اساتذہ کرام پہلے اس امر کا احساس کریں اور پختہ عقیدہ رکھیں کہ تعلیم ایک ایسی نعمت ہے جو اللہ تعالی کا انعام ہے۔ اللہ تعالی نے اس کائنات کو علم کی نعمت سے نوازا اور سب سے پہلے حضرت آدم علیہم سلام کو علم کی نعمت عطا کی گئی۔ اور پھر انسان کو علم کے ذریعے سے وہ کچھ سکھایا جو کہ وہ نہیں جانتا تھا۔ درس و تدریس ایک بہت ہی مقدس پیشہ ہے کیونکہ اس پیشہ میں ایک فرد دوسرے کو کچھ سکھتا ہے اور اس کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے اور تعلیم دیتا ہے۔ اور تمام تر انبیاء علیہم اسلام اپنے ادوار میں مختلف طریقوں سے اپنی امتوں کو تعلیم دیتے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک معلم کے طور پر دنیا میں بھیجا گیا اور آپ نے دین اسلام کے ذریعے دنیا کو جہالت کے اندھیروں سے باہر نکالا اور اسلامی تعلیمات کو دنیا کے طول و عرض میں پہنچایا۔

اساتذہ ہمارے روحانی باپ کا درجہ رکھتے ہیں اور وہ اسی احترام اور تعظیم کے لائق ہے جس طرح ہم اپنے والدین کی عزت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارا وجود اس دنیا میں مسلم ہوا۔ پہلے ادوار میں اساتذہ کی بہت عزت اور تعظیم کی جاتی تھی اور ان کو خدمات بہترین مشاہرے کے عوض حاصل کی جاتی تھی لیکن موجود دور میں یہ المیہ ہی ہے کہ اساتذہ کی وہ عزت نہیں جو کہ ہونی چاہیے اور دوسرا ان کو معمولی تنخواہوں پر رکھا جاتا ہے جبکہ وہ نئی اور نوجوان نسل کو تعلیم دے رہے ہیں۔ طبقاتی نظام تعلیم، ٹیوشن کلچر، اور پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار نے استاتذہ کی توقیر کو اور بھی کم کیا ہے اور ان کو وہ مرتبہ و مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہیں۔

اساتذہ کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے۔ اور وہ قومیں جو اپنے اساتذہ کی عزت و تکریم نہیں کرتی ہیں اور ان کو بہت معمولی رتبہ دیتی ہیں ایسی قوموں کو ذلت سے پھر کوئی بچا نہیں سکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول مبارک ہے کہ جس نے مجھ کو ایک لفظ بھی پڑھا دیا وہ میرے لیے معلم کا درجہ رکھتا ہے اور وہ پورے احترام کا مستحق ہے۔ اسی بات سے معلم کے رتبے کی پہچان ہو جاتی ہے کہ ایک استاد نسلوں کو سنوار دیتا ہے لہذا ایک استاد کی معاشرے میں وہ عزت اور تکریم ہونی چاہیے جس کا وہ مستحق ہے۔ ایک استاد کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ معلم ہی تعلیمی ڈھانچے کا اہم ترین عنصر ہے اور وہ عظیم ہستی ہے جس کے کاندھوں پر نئی نسل، جو مستقبل کی معمار اور صورت گر ہے کی تعلیم کی تمام تر ذمہ داریاں معلم پر ہیں۔ یعنی اساتذہ ہی آنے والی نسلوں کے امین اور رکھوالے ہیں۔

طلباء اساتذہ کی سیرت و شخصیت کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں اس لیے ایک استاد کو انتہائی محتاط ہونا چاہیے۔ اسے بچوں کی تعلیم اور تربیت کے دوران اپنا محسابہ بھی کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ جن اچھے خصائل اور اقدار کو وہ بچوں میں منتقل کرنا چآہتا ہے وہ پہلے خود اس کے اندر موجود ہونا چاہیے کیونکہ وہ بہرحال اپنے طالب علموں کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ استاد کی شخصیت جن اوصاف کی آئینہ دار ہو گی وہ اوصاف از خود طلباء کو متاثر کریں گے۔ شاگرد ہمیشہ اپنے استاد کو بہت باریک بینی سے دیکھتا ہے اور اس کی باتوں کو بہت توجہ سے سنتا ہے اور اس کو باتوں کو اپنے لیے مشل راہ سمجھتا ہے۔

اگر استاد کا رویہ اپنے طلباء سے اچھا ہو گا تو اس کے طالب علم دل و جان سے استاد کی عزت کریں گے اور وہ اگر اپنے رویے میں ان کے لیے اخلاص رکھے گا تو طالب علم اتنی ہی دلچسپی اور لگن سے اپنے استاد کی باتوں پر عمل کرے گا۔ استاد اگر نرم دل ہو گا تو اس کے طالب علم اس سے اپنے تمام تر مسائل پر بات کریں گے اور اس کے مشورہ کے طلب گار ہوں گے۔ اگر استاد اچھی صحبت رکھتا ہو گا اور اچھے اوصاف کا مالک ہو گا تو یہ بات بھی اس کے طالب علموں سے چھپی نہیں رہے گی اور وہ اس کو اپنا رول ماڈل تسلیم کر لیں گے۔ لہذا یہ تمام تو وہ خصوصیات ہیں جو ایک استاد کو اس کے طالب علموں کی نظر میں ممتاز، معتبر اور اچھے اوصاف کا مالک بناتی ہیں اور اس کے طالب علم پوری توجہ سے استاد کی نہ صرف بات کو سنتے ہیں بلکہ پوری طرح عمل کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔



Tags

Character , Student , Teacher


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies