Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

جاپان کا تعلیمی نظام

جاپان کا تعلیمی نظام

جاپان کا تعلیمی نظام ساری دنیا میں ایک بہترین انفرادی نظام تعلیم ہے۔ اور تعلیم کی بنیاد جاپان کی سوسائٹی پر ہے۔ جاپان کا سکول سسٹم بالکل الگ تھلگ اور خاص قسم کی خصوصیات کا حامل ہے اور ان کا تعلیمی نظام نہ تو امریکہ اور نہ ہی برطانیہ سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔  اور ان کا سکول کاتعلیمی نظام دوسرے ایشیائی ممالک سے بھی بالکل مختلف ہے۔ یہ مکمل طور پر جاپان کے کلچر پر مبنی نظر آتا ہے اور قدرتی فلسفیانہ ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر اس طرح سے تشکیل دیا گیا ہے کہ تعلیم اور معالومات عام ہوں اور ہر فرد تک پہنچیں تاکہ ایک تعلیم یافتہ اور علم سے بھرپور معاشرہ ترقی پا سکے۔ مقابلے کا وقت اس کے بہت بعد میں آتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم بھی جاپان کے تعلیمی نظام سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کیونکہ جاپان اپنے تعلیمی نظام میں صرف اور صرف اپنی زبان کو فوقیت دیتا ہے اور ہم بھی اگر جاپان کے طرز تعلیم کو اپنائیں اور اس کو آگے لے کر چلیں تو ہمارے بہت سے تعلیمی مسائل نیچے سے لے کر اوپر تک حل ہو سکتے ہیں۔ وہی قومیں ترقی معاشی اور تعلیمی میدان میں ترقی کرتی ہیں جو کہ اپنی زبان کو فوقیت دیتی ہیں۔

ہم اب تک اپنے تعلیمی نظام کو درست کرنے کے قابل نہیں ہو سکے ہیں اور تاحال تجربات میں ہی مصروف ہیں اور ہم انٹرنیشنل تعلیمی معیار کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ جاپان کا تعلیمی نظام ہمارے لیے ایک بہترین رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ اور ہم اگر جاپان کے تعلیمی نظام کو سمجھیں اور اس کو اپنائیں اور ان کے طریقہ تعلیم کو اپنے ملک میں رائج کریں تو ہم عالمی معیار تعلیم کو سمجھنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ تعلیم مناسب وسائل کےساتھ ہرایک کی پہنچ میں آئے گی اور سکولوں میں پڑھائی کا معیار بھی بہتر ہو جائے گا۔ جاپان نے عالمی معیار تعلیم کی شروعات سال 1868 میں کی۔ تمام والدین کو اس بات کا حکم دیا گیا اور ان کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی سکولوں میں بھیجیں۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ اس عمر کا کوئی بھی بچہ گلیوں میں بلا وجہ کھلیتا ہوا نہیں پایا جائے گا یہاں تک کہ مارکیٹوں، پارکس میں دن کے وقت کوئی بچہ جائے گا اور نہ ہی بچوں سے جبری مشتقت لی جائے گی اور اس حوالے سے جاپان کی حکومت نے سخت قوانین کا نفاذ کیا۔ پولیس کو اس حوالے سے اختیارات دیے گئے کہ ایسے بچے جن کی سکول جانے کی عمر ہے اور وہ لیبر ورک یا کسی اور مصروفیت میں نظر آئیں تو ان کو ان کے والدین سمیت گرفتار کر لیا جائے۔

ہمیں آزادی حاصل کیے 70 برس بیت چکے ہیں اس کے باوجود آج بھی ہمارے ملک میں بچوں کی اکثریت سکولوں میں نظر نہیں آتی بلکہ گلی محلوں میں نظر آتی ہے۔ ان میں زیادہ تر سڑکوں گلیوں میں بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم آج تک وہ سسٹم نہیں بنا سکے جس کی مدد سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر بچہ سکول جاتا ہوا نظر آئے۔ کیا ہمیں بھی جاپان والوں کو اس حوالے سے فالو کرنا چاہیے یا اسی ناکام سسٹم کو لے کر آگے چلنا چاہیے۔ جاپان کے بچے حساب اور پڑھائی کی صلاحیتوں میں ساری دنیا کو لیڈ کر رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جاپان کا تعلیمی نظام معیار پر یقین رکھتا ہے بجائے مقدار کے۔ جاپان کا تعلیمی نظام بچوں کو معیاری اسباق پر تعلیم دیتا ہے اور ان کو پریکٹیکل بناتا ہے۔ جاپان کے الفابیٹک کے 46 الفاظ ہیں جو کہ ہراگانہ اور کاٹاگانا کہلاتے ہیں اور ان سب کو ملک کر کل 92 کریکٹر بنتے ہیں۔ یہ کریکٹر پکٹوگرافک کہلاتے ہیں اور ان تمام تر کریکٹرز کو بچوں نے زبانی یاد کرنا ہوتا ہے۔ سکول میں پڑھنے والے بچے 1006 چائنیز الفاظ سیکھتے ہیں جن کو کانجی بولا جاتا ہے۔ یہ تمام الفاظ یاد کرنا ہر بچے کے لیے ضروری ہے جو کہ سکول میں پڑھنے والے بچوں کی ذہانت کو ثابت کرتا ہے۔

جاپان کے سکولوں میں گریڈ 4 تک کسی بھی قسم کے کوئی امتحانات نہیں ہوتے اور جب تک کہ بچہ دس سال کا نہ ہو جائے۔ صرف چھوٹے ٹسٹ لیے جاتے ہیں تاکہ بچے کی صلاحیتوں اور قابلیت جانچی جا سکے۔ یہ بھی صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ تاکہ ان کی کردار سازی ہو سکے ان کو طور طریقے سکھائے جائیں اور اس کا رویہ مثبت بنایا جائے تاکہ وہ سوسائٹی میں بحیثیت اچھے فرد کے لوگوں سے مل سکیں۔ طالب علم کلاس میں خاموشی سے اور انفرادی طور پر پڑھتا ہے۔ کلاس میں ڈسپلن کا بالخصوص خیال رکھا جاتا ہے۔ اور ہمارے ملک میں اس کے بالکل برعکس ہے کہ ٹیچر کلاس سے گیا نہیں اور کلاس کا ڈسپلن ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔

جاپان کے تعلیمی نظام میں ایلیمنٹری تعلیم کی بھی بہت اہمیت ہے جس میں چھٹی کلاس تک تعلیم لازمی ہے۔ مڈل تعلیم کا آغاز 1886 میں میجی ایرا کے دور میں ہوا اور لازمی قرار دی گئی۔ یہ تعلیم بالکل مفت ہے اور حکومت اس کے لیے فنڈز دیتی ہے۔ بچے پبلک ٹرانسپورٹ اور بسوں کے ذریعے گھر سے سکول جاتے ہیں۔ ہر کلاس کے بعد 6 منٹ تک بریک ٹائم ہوتا ہے۔ جاپان میں جونیر کلاسوں کے تمام طلباء سکول یونیفارم پہنتے ہیں۔ نہ وہ سکول سے چھٹی کرتے ہیں اور نہ لیٹ ہوتے ہیں۔ تمام بچوں کو ایک ٹائم کا کھانا سکول کی طرف سے مہیا کیا جاتا ہے۔ جو کہ وہ دن 12 بجے سکول کے کچن سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹیچرز اور طلباء اکھٹے کھانا کھاتے ہیں اور اس طرح ان کے باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ سب ایک جیسا کھانا کھاتے ہیں اور اس کے بعد خود سے صفائی ستھرائی کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جاپان نے اپنے تعلیمی نظام میں بہت محنت کی ہے اور آج جاپان کا تعلیمی معیار پوری دنیا میں مانا جا رہا ہے۔



Excerpt

writer has given comprehensive details about Japan study system and how this system has development and recognized in the whole world. we should also follow this education system.

Tags

Education , Training


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies