Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

تعلیم کے حصول میں لائبریری کا کردار

تعلیم کے حصول میں لائبریری کا کردار

تعلیم کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ صرف معلومات کو اکٹھا کیا جائے۔ ان معلومات کو صرف پڑھ لیا جائے۔ بلکہ تعلیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے فرد اور افراد کے کردار کی تعمیر کی جائے۔ ان کے رویہ میں مثبت تبدیلی لائی جائے۔ اور رویہ میں تبدیلی اس طرح سے لائی جائے کہ اس کا کوئی حاصل و مقصود ہو۔ اس کے علاوہ تعلیم کا مقصد یہ بھی ہے کہ معالومات میں تبدیلی لائی جائے اور رویوں کے علاوہ صلاحیتوں اور سمجھ بوجھ میں بھی مثبت تبدیلی لائی جائے۔ معاشرے کی بڑھتی ہوئی ضرویات کی وجہ سے تعلیم نظام میں بھی کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ اور یہ کئی طرح کی علامات میں اپنی شکل بدل چکی ہے۔ جیسا کہ بڑے، بچے، صحت، تکنیکی تعلیم اور بہت کچھ۔ تعلیم کی جن اقسام کا ذکر کیا گیا ہے جو قابل بحث ہیں جن میں رسمی تعلیم اور غیر رسمی تعلیم دونوں ہی شامل ہیں۔

رسمی تعلیم وہ تعلیم ہے جس میں سیکھنے والا سکول، کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم  حاصل کرتا ہے۔ ایسے طریقہ تعلیم وہ سکول اور تدریسی اداروں میں جاتا ہے۔ یونیفارم پہنتا ہے۔ امتحانات دیتا ہے۔ اپنی کارکردگی دکھاتا ہے اور کارکردگی دکھانے کے حوالے سے بھی کئی چیزیں ہیں اور جہاں وہ اپنے اچھے گریڈز دکھا کر یہ بتاتا ہے کہ اس میں کیا صلاحیتیں ہیں۔ اور اس طرح وہ مختلف کورسز، اور ڈگری پروگرامز کو مکمل کر کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرتا ہے اور پھر معاشرے کا ایک سرگرم فرد بن جاتا ہے۔ دوسری صورت غیر رسمی تعلیم کی ہوتی ہے۔ جس میں ایک فرد اپنے ماحول اور زندگی کے تجربات کی بنا پر سیکھتا ہے۔ اس ماحول میں سیکھنے والا کئی طرح کی باتوں کو سیکھتا ہے۔ وہ اپنے ماحول، اپنے اردگرد ہونے والے حالات کی وجہ سے سیکھتا ہے۔ یہ طریقہ تعلیم کسی بھی نصاب سے بالا ہوتا ہے۔ لہذا اس طریقہ تعلیم میں نہ تو کسی معلم کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی ماہر تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ طریقہ تعلیم صرف فرد کی ذاتی صلاحیتوں پر منحصر ہوتا ہے جیسا کہ تیراکی، مختلف کھیل۔

لائبریری کیا ہے۔ امریکن لائبریری ایسوسی ایشن لائبریری کو کچھ اس طرح بیان کرتی ہے کہ ایک ایسا مرکز جہاں پر بہت سارے تعلیمی وسائل موجود ہوں اور جو کئی طرح کی شکلوں میں ہوں اور ان کو ماہرین نے مرتب کیا ہو۔ ایسے تعلیمی وسائل جو کہ عام افراد کی پہنچ میں ہوں اور وہ ان کو اپنی منشا کے مطابق معلومات میں اضافے اور ریسرچ کے حوالے سے استعمال میں لا سکیں۔ لائبریریوں کی بہت سی اقسام ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ اکیڈمک، پبلک، سکول اور سپیشل لائبریریز۔ اکیڈمک لائبریریز خود اپنے اندر بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ جو کہ سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں موجود ہوتی ہیں۔ اور ان لائبریریز سے اساتذہ اور طلباء استفادہ کرتے ہیں۔ تمام تر بڑے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز کی اپنی لائبریریز ہوتی ہیں جہاں ہر طرح کا تعلیمی مواد، ریسرچ کی تصانیف موجود ہوتی ہیں جن سے طلباء فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اپنے تعلیمی نوٹس تیار کر سکتے ہیں اور اپنے ریسرچ ورک میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

پبلک لائبریریز میں ہر طرح کے رسائل، میگزین، جریدے، ناولز، فکشن ناولز اور بہت کچھ موجود ہوتا ہے۔ ان لائبریریز میں بھی تعلیمی مواد اور لٹریچر موجود ہوتا ہے لیکن کیونکہ یہ پبلک لائربریریز ہوتی ہیں اس لیے یہاں پر اکیڈمک مواد سے لے کر عام رسائل اور جریدے اور معلوماتی لٹریچر سب کچھ موجود ہوتا ہے یعنی ایک فرد چاہے وہ کسی بھی شعبہ زندگی سے وابستہ ہو اس کو اپنی مرضی کا ایسی لائبریری میں کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ لائبریری جو کہ سکولوں میں موجود ہوتی ہے ان میں صرف بچوں کے حوالے سے درسی کتابیں اور کہانیوں کی کتابیں دستیاب ہوتی ہیں۔ وہ بچے جو پہلی یا دوسری کلاس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کے لیے اچھی مثبت کہانیوں پر مشتمل رسالے لائبریری کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ہر طرح کی نصابی کتابیں لائبریری کا حصہ ہوتی ہیں۔

موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی تعلیم کے حوالے سے لائبریری کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے اور کتاب ایک ایسی واحد چیز ہے جو کہ بور نہیں ہونے دیتی۔ جن لوگوں کو مطالعے کا شوق ہوتا ہے وہ اپنے ذوق اور شوق کے مطابق ہر طرح کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ لائبریری کی اہمیت سے کسی بھی صورت انکار ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ یہ طلباء کو ریسرچ ورک میں مدد دیتی ہے۔ طلباء کو لائبریری سے ہر طرح کے ریفرنس، کتابیں، حوالاجات اور تعلیمی ڈیٹا مل جاتاہے۔ جس کی بنیاد پر وہ اپنے ریسرچ کے کام کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ لائبریری سے ہر قسم کا لٹریچر، تعلیمی رسائل اور دیگر تصانیف ہر وقت دستیاب رہتی ہیں۔ ایک باشعور انسان جس کو پڑھنے کا شوق ہوتا ہے وہ کتب بینی کے ذریعے اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے۔ وہ ہر قسم کی معلومات سے لیس ہوتا ہے۔ آج تک دنیا میں جو بڑے بڑے سکالز اور مایہ ناز لوگ گزرے ہیں ان کی قابلیت کا راز بلاشبہ ان کی تعلیم، اور مطالعے میں چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ جو لوگ اپنی تعلیم کو بہتر بناتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ لائبریری کی بھی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں ان کے اندر معلومات کا ایک ذخیرہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ہمارے آج کے دور کے طالب علموں کو بھی تعلیم کے حصول کے ساتھ لائبریری سے اپنا رشتہ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آج کا پڑھا لکھا نوجوان ملک و قوم کا اثاثہ ہے۔



Excerpt

a good article regarding libraries and their role in education development.

Tags

Education , Library


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies