Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

بچوں کی تربیت کے سنہری اصول

بچوں کی تربیت کے سنہری اصول

جو ماں اپنے گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ وہ بچے کو اسی کمرے میں جھولے کے اندر لٹا دیتی ہے کہ وہ بچے سے غافل نہ رہے۔ اس بارے میں یہ رائے قائم کی جاتی ہے کہ بچوں کو زندگی کے ابتدائی دور میں ہی تنہائی کا عادی بنانا چاہیے تاکہ ان میں آزادی اور تصور کی کیفیت نشو و نما پائےلیکن اکثر بچے جنہیں تنہا رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے وہ افسردہ اور خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور ایسی اداسی کی وجہ سے ان میں اکثر انگوٹھا چوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب وہ تھوڑے بڑے ہوتے ہیں اور کھڑے ہونے کے قابل ہوجاتے ہیں تو غیر شعوری طور پر جسم کے بالائی حصے کو آگے پیچھے حرکت دینے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جس بچے کے ساتھ باتیں کرنے کا سلسلہ قائم رکھا جائے اور اس کو کھیلنے کی ترغیب دی جائے وہ اپنی ضروریات بتانے کے قابل ہوتا ہے۔ بچے کو مطمئن اور خوش رکھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کا تعلق ایسے لوگوں سے ہو جن سے ہو مانوس ہو۔

اکثر والدین کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں اپنے بچوں کو ڈسپلن نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ ان کا بچہ بالکل بھی نہ بگڑنے پائے چاہیے وہ کتنا ہی عمر کے اعتباد سے ابھی چھوٹا ہے۔ ایک اچھی ماں کے لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ پہلے اس بات پر غور کر لیا جائے کہ بچے کی ہر بات کو مان لینے سے اسے نطم و ضبط کا پابند بنانے کا نتیجہ کیا ہو گا۔ جن بچوں کے والدین ان کی ہر خواہش پوری کر دیتے ہیں ان بچوں کو جلد یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اگر وہ کسی چیز کے لیے ضد کریں گے اور روئیں گے تو انہیں وہ چیز بہرحال مل جائے گی۔ پھر جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں تو اپنے اساتذہ اور دوستوں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی ہر بات مانیں گے۔ اور یہاں سے ان کا بگاڑ پن مزید بڑھ جاتا ہے جب ان کی توقعات پوری نہیں ہو  پاتیں۔ اور ان میں مایوسی پھل جاتی ہے۔ ایسے بچوں کو بعد میں اپنی باتیں منوانے اور زندگی کی مشکلات پر قابو پانے میں دقت ہوتی ہے۔

ایسے بچے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان سے محبت کرنے کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ان کی ہربات کو مانا جائے۔ ان کی کسی خواہش کو رد نہ کیا جائے۔ اور پھر والدین کے بے جا لاڈ پیار کی وجہ سے ایسے بچے عموما بہت زیادہ بگڑ جاتے ہیں۔ اوران کے ساتھ اگر سختی برتی جائے تو اکثر نتائج منفی صورت میں سامنے آتے ہیں اور ایسے بچے غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ ایسے بچوں کے ساتھ یقینا نرمی کا سلوک روا رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ان کی ہر بات کو مان لیا جائے۔ بلکہ جو بات ان کے لیے صحیح نہیں ہے اس سے ان کو منع کرنا چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کے لیے کیا چیز غلط ہے اور کیا صحیح ہے۔

دوسری طرف ایسے والدین بھی ہیں جو بچے کی ہر خواہش کو پورا نہیں کرتے یااہمیت نہیں دیتے بلکہ ان کی تربیت کے معاملے میں قدرے سختی کا رویہ بھی اپناتے ہیں جو کہ بچے کی عملی تربیت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک اچھی تربیت آگے چل کر بچے کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ جب والدین یہ بات سمجھتے ہیں کہ فلاں چیز بچے کے لیے صحیح ہے اور فلاں چیز صحیح نہیں ہے تو وہ بچے کے لیے جو بات بہتر ہوتی ہے اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح بچے کی نہ صرف تعلیم و تربیت بالکل صحیح انداز میں ہوتی ہے بلکہ آگے چل کر اس کو عملی زندگی میں کم دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ جب وہ تعلیم کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھتا ہے اور استاتذہ کی عزت کرتا ہے تو یہ تمام باتیں اس کے لیے مثبت راستے ہموار کر دیتی ہیں۔

لہذا بچے کی تربیت شروع دن سے ہی اچھے طریقے سے کرنی چاہیے۔ اس کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو نہیں ماننا چاہیے اور اس و یہ احساس دلانا چاہیے کہ اس کے لیے کیا بات صحیح ہے اور کیا غلط ہے تاکہ وہ عملی زندگی میں چیلجنز کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کر سکے اور زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا حوصلے سے مقابلہ کر سکے۔



Tags

Children , Training


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies