Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت

بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت

اولاد، اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک انمول نعمت ہے۔ بے اولاد افراد سے اس نعمت کی قدر معلوم کریں تو اندازہ ہو گا کہ یہ خالق کائنات کا کتنا بڑا انعام ہے اور اس سے محرومی کیسے والدین کے لیے روگ بن جاتی ہے۔ اس لیے رب کریم کے اس عطا کردہ کرم کا جس قدر شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ اور شاید اس لیے ہی جب اللہ تعالی کسی جوڑے کو اولاد سے نوازتا ہے تو پھر اس کی پوری زندگی اپنے بچوں ہی کے ارد گرد گھومتی پھرتی ہے۔ تاہم مختلف والدین کے اپنی اولاد کے ساتھ مختلف رویے ہوتے ہیں۔ اوری ہ اس لیے ہے کہ ہم سب بھی تو ایک جیسے نہیں ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ نے مختلف صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور پھر جسمانی ذہنی اور مالی تفریق بھی ایک دوسرے سے مختلف بناتی ہے لیکن اس کے باوجود تقریبا تمام والدین کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے قدموں میں دنیا بھر کی خوشیاں ڈھیر کر دیں اور ان کے حصول کے لیے خواہ انھیں کتنی ہی تگ و دو کیوں نہ کرنی پڑے کہ گزریں۔

تاہم اگر بچوں کی خواہشات مثبت اور اپنے دائرے کے تعین کے ساتھ ہوں تو ان کی تکمیل سے نہ صرف والدین کو دگنی خوشی حاصل ہو گی بلکہ خود ان کے مفاد میں بھی بہتر ثابت ہو گا۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی اولاد کے معاملے دو طرح کی انتہاؤں تک چلے جاتے ہیں۔ یا تو بچوں کو اس قدر لاڈ و پیار کرتے ہیں کہ وہ ان کے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں یا پھر وہ ان پر اتنی سختی کرتے ہیں کہ بچے اپنا اعتماد تک کھو بیٹھتے ہیں۔ دین اسلام اولاد کی تربیت میں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اولاد کو دنیا جہاں کی آسائشیں فراہم کر کے اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھا کر والدین ہونے کا حق ادا کر دیا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ درحقیقت اولاد کا حق اس کی اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ اسے اچھا انسان اور با عمل انسان بنانا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں یہ سب کس طرح سے ممکن ہے۔

آپ نے غور کیا ہے کہ آج کل تقریبا سب ہی والدین اس بات سے نالاں نظر آتے ہیں کہ بچے ان کا کہنا نہیں مانتے۔ پہلے کے بچوں میں جو فرماں برداری تھی وہ آج نظر نہیں آتی تو ایسا کیوں ہے؟ مانا کہ وہ اپنے بچوں کو اس قدر وقت نہیں دے پاتے جتنا لوگ پہلے دیا کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ انہيں وقت تو دیتے ہی ہیں اور پھر جو فرمائیش وہ کرتے ہیں اس کو فورا پورا کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی بچوں میں خود سری کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اصل میں پرانے وقتوں میں بچوں کی جائز فرمائیش کو اس طرح پورا کیا جاتا تھا کہ ان کو اس کی قدر ہوتی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں رہا ہے۔ بچوں کی اچھی تربیت کے لیے لازم ہے کہ والدین ان سے محبت اور شفقت سے پیش آئيں اور انہیں زیادہ سے زیادہ وقت دیں۔ اور انہیں عملا سکھائیں کہ وہ کیسے اچھے انسان اور مسلم بن سکتے ہیں۔

پھر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر والدین بڑے فخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کتنے ذہین ہیں اور کس طرح سمارٹ فون کا استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ استعمال کر سکتے ہیں گیمز کھیل سکتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کتنے ایکٹو رہتے ہیں۔ لیکن ان سادہ لوح والدین کو یہ بات معلوم نہیں ہوتی ہے کہ یہ بات باعث فخر نہیں ہے بلکہ وہ الٹا اپنے بچوں کا نقصان کر رہے ہیں۔ اور ان کو اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ ان کی مصروفیات کیا ہے ان کے دوست کس قسم کے ہیں اور یہ کہ جب وہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ کس طرح کی سائٹس پر جاتے ہیں اور بالخصوص سوشل میڈیا پر کیا کچھ کر رہے ہیں۔ ان سب باتوں کی جانکاری رکھنا آج کل والدین کے لیے بہت زیادہ ضروری ہیں تاکہ ان کے بچے غلط راستوں پر نہ چل پڑیں۔

بچوں کا دماغ صاف سلیٹ یا تختی کی طرح ہوتا ہے جس پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے اور وہ ان پر ثبت ہو جاتا ہے۔ لہذا انہیں وہ اچھی باتیں سکھائیں جن پر آگے جا کر وہ عمل کریں اور اچھے انسان بن سکیں۔ ان کی اچھی تربیت کریں اور ان کو نماز پڑھنے کی ترغیب دیں اور ساتھ ہی ان کو قرآن پاک پڑھنے اور سمجھنے کی ترغیب دیں تاکہ وہ کل کو معاشرے کا  ایک اچھا فرد بن سکیں اور اپنی تعلیم و تربیت کو مثبت کاموں میں استعمال کر سکیں۔



Tags

Children , Education , Training


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies