Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

بلوچستان میں اعلی تعلیم

بلوچستان میں اعلی تعلیم

بلوچستان پاکستان کا پنجاب کے بعد سب سے بڑا صوبہ ہے جو کہ پاکستان کی آبادی کا 44٪ فیصدی ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے خوبصورت صوبہ بھی ہے۔ یہاں قدرت کی خوبصورتی بے مثال ہے۔ اور قدرت نے اس صوبے کو معدنیات سے بھی مالا مال کیا ہے۔ بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے ہمیشہ ہر آنے والی حکومت کو بہت سے چیلنجز اور مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اور گزشتہ بھی کئی سالوں میں بلوچستان کو کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ یہ مسائل تقریبا ہر نوعیت کے ہی ہیں جن میں تعلیم اور صحت کے مسائل سب سے زیادہ نظر آتے ہیں اور اس کے علاوہ پینے کا صاف پانی اور کئی بنیادی سہولتوں سے بلوچستان دیہی علاقے اب بھی محروم ہیں۔ لیکن اب بلوچستان میں تعلیم کے شعبے کو بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ چھوٹے بچے سکولوں کو جائیں اور بالخصوص چائلڈ لیبر کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

ہائر ایجوکیشن نے پچھلے کچھ عشروں میں بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں کافی محنت سے کام کیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سن 2002 سے اب تک بلوچستان میں صرف تعلیم کے شعبے میں کڑی محنت کی ہے اور 32 ارب سے زیادہ کی سرمایہ کاری صرف تعلیم کے شعبے کی ترقی اور فلاح کے لیے کی گئی ہے۔ بنیادی تعلیم کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ جب سال 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بلوچستان میں تعلیمی شعبے کو توجہ کا مرکز بنایا اس وقت سکول جانے والے بچوں کی تعداد مشکل سے تین ہزار اور سات سو کے لگ بھگ تھی۔ لیکن اب یہ تعداد کافی حوصلہ بخش ہو چکی ہے اور تقریبا تیس ہزار بچے سکولوں میں جا رہے ہیں۔

بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کڑی محنت، مقامی تعلیمی درسگاہوں کی محنت اور شمولیت، اور اس کے ساتھ ہی ساتھ سیاسی لیڈر شپ کی محنت بھی شامل ہے۔ جبکہ اس سے پہلے سیاسی لیڈر شپ نے ہمیشہ بلوچستان کو تعلیم کے شعبے میں صرف پیچھے ہی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن گزشتہ  حکومتوں نے نہ صرف بلوچستان کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا بلکہ خاص طور پر تعلیمی شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر اوپر رکھا گیا اور اس شعبے کے لیے مؤثر قانون سازی کی گئی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ بلوچستان میں بنیادی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم اور معیاری تعلیم کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائیں۔

ہہ بات قابل غور ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر سال 2002 تک بلوچستان میں صرف دو یونیورسٹیز موجود تھیں۔ سال 2002 میں ہائر ایجوکیشن کے قیام کے بعد بلوچستان میں چھ نئی یونیورسٹیز کا قیام عمل میں آیا۔ اور اس کے علاوہ ان یونیورسٹیز کے مزید آٹھ کیمپس بھی قائم کیے گئے۔ جب کہ مزید ادارے زیر تعمیر ہیں۔ اس کے علاوہ مزید سہولیات کی فراہمی بھی بلوچستان کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی تھیں۔  بلوچستان میں تعلیمی میدان میں کی جانے والی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تمام تر محنت کو پاکستان میں میڈیا نے کبھی کوئی اہمیت نہیں دی جو کہ ایک اچھا تاثر نہیں ہے۔ جہاں تک بلوچستان میں اعلی تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری ہونے کے حوالے سے تعلق ہے تو اب تک اس شعبے پر 13 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اور مزید یونیورسٹیز کے قیام اور موجودہ یونیورسٹیز کے انفراسٹکچر کو بہتر بنانے کے لیے مزید سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اور اس کے علاوہ قابل فیکلٹی کی تعیناتی کے لیے مزید 3 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

حکومت بلوچستان میں تمام تر یونیورسٹیز میں زیر تعلیم مستحق طلباء کو سکالر شپس بھی فراہم کر رہی ہے اور اس میں بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایک بڑی کاوش کو دخل ہے۔ معیار تعلیم اور ریسرچ کو بہتر سے بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تمام دستیاب وسائل کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اعلی فیکلٹی کو بہترین تنخواہوں پر ہائر کیا گیا ہے تاکہ وہ نوجوان نسل کو بہترین اور معیاری تعلیم دیں اور ریسرچ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہے ہے تاکہ ریسرچ کا کام جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا جا سکے۔ بے شک تعلیم ہی وہ طاقت ہے جس کی بنا پر قومیں ترقی کر سکتی ہیں اور اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکتی ہیں۔



Tags

Education , University


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies