Moawin.pk is an educational web portal which provides a comprehensive platform to Pakistani students, parents, teachers and career seekers.

 

ایشیا یونیورسٹی رینکنگ: پاکستانی یونیورسٹیز ٹاپ تین سو کی فہرست میں

ایشیا یونیورسٹی رینکنگ: پاکستانی یونیورسٹیز ٹاپ تین سو کی فہرست میں

ٹائمز ہائر ایجوکیشن جو ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور تعلیمی لحاظ سے دنیا بھر کی یونیورسٹیز کی رینکنگ کو منظم کرتا ہے نے حال ہی میں پاکستان کی سات یونیورسٹیز کو ٹاپ تین سو ورلڈ یونیورسٹیز کی رینکنگ میں شامل کیا ہے۔ یہ رینکنگ 2016 میں صرف دو یونیورسٹیز کی تھی جو کہ اب بڑھ کے سات یونیورسٹیز تک پہنچی ہے۔  ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کا آغاز سال 2004 میں شروع ہوا تھا۔ یہ ادارہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیز کی فہرست ہر سال جاری کرتا ہے۔ یہ ادارہ مختلف یونیورسٹیز کو میرٹ پر رینکنگ دیتا ہے جن میں یونیورسٹی کی تدریس کا معیار، ریسرچ کا معیار، انفراسٹکچر، اور ادارے کا معیار سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ اس ادارے کے تشکیل دیے ہوئے اعداد و شمار پر دنیا کی زیادہ تر حکومتیں اعتماد کرتی ہیں اور اس طرح طلباء کے لیے یہ ایک بہترین ریسورس ہے کیونکہ وہ طلباء جو بالخصوص باہر کی یونیورسٹیز میں جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ آسانی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی اعلی تعلیم کے لیے کون سی یونیورسٹی کا انتخاب کریں جو آگے جا کر ان کے کیریئر کے لیے بہتر ثابت ہو۔

سال 2016 میں صرف قائد اعظم یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این یو ایس ٹی) نے ایشیا کی سب سے بہترین یونیورسٹیز میں شمولیت کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ لیکن اس سال 2017 میں پاکستان نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے کہ اس نے اس شرح کو تین گنا گیا ہے اور سات یونیورسٹیز کو ورلڈ ٹائمز ہائر ایجوکیشن میں رینکنگ ملی ہے۔ جو کہ ٹاپ 300 یونیورسٹیز کی فہرست میں شامل ہیں۔ کیونکہ حال ہی میں ایشیا سے اور بھی بہت سی نئی یونیورسٹیز نے ورلڈ رینکنگ میں اپنی جگہ بنا لی ہے جو کہ پچھلے سال کی نسبت 200 زائد ہیں۔

لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے یہاں پر کہ پچھلے سال کی نسبت پاکستان کی جو دو یونیورسٹیز رینکنگ میں موجود تھیں ان کی پوزیشن کچھ نیچے آئی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی پوزیشن 101 کی پوزیشن سے 110 پر آئی تھی جو کہ اس وقت 130 کی پوزیشن پر موجود ہے۔ جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 151 نمبر سے 160 کی پوزیشن پر آئی ہے جبکہ سال 2016 میں یہ پوزیشن 130 نمبر پر تھی۔ ان دونوں یونیورسٹیز کے نیچے آنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک بڑی وجہ ایشیا میں کئی نئی یونیورسٹیز کا سامنے آنا ہے جو کہ اپنی اوور آل ریپوٹیشن کی وجہ سے جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہیں اور مختلف اداروں نے اپنا معیار بہت تیزی سے بہتر کیا ہے۔

یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان نے پچھلے سال کی نسبت اس سال میں اپنی پوزیشن ورلڈ ٹائمز ہار ایجوکیشن ریکارڈ میں تین گنا کر لی ہے اور مذید پاکستان یونیورسٹیز اس رینکنگ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اور ان تمام تر اداروں میں سب سے نمایاں کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے جس نے اس سال اس رینکنگ میں شمولیت کر لی ہے اور 141 سے 150 کی رینکنگ کے درمیان میں موجود ہے جو کہ یقینا پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ لہذا ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ توجہ دیں ریسرچ اور تدریس کا معیار زیادہ سے زیادہ بہتر بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی یونیورسٹیز ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی رینکنگ میں اپنی جگہ بنا سکیں اور تعلیم کے شعبہ میں پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے۔



Tags

University


Comments




Write for us - www.moawin.pk

© Moawin, All rights reserved
Design & Developed by: Mark1technologies